تاریخ کے آئینے میں آرمینیا اور فارس کے مضبوط رشتے کو کیسے سمجھیںآرمینیا اور فارسی سلطنت کا گہرا تاریخی تعلق: وہ سب جو آپ کو جاننا چاہیے

webmaster

아르메니아와 페르시아 제국의 관계 - **Prompt: "Ancient Armenian-Persian Cultural Crossroads"**
    A panoramic view of an ancient Armeni...

دوستو! کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کچھ رشتے وقت اور حالات کی قید سے آزاد ہو کر صدیوں تک کیسے قائم رہتے ہیں؟ آج ہم ایک ایسے ہی شاندار اور پیچیدہ تعلق کا جائزہ لینے والے ہیں جو آرمینیا اور عظیم فارسی سلطنت کے درمیان صدیوں سے پروان چڑھتا رہا ہے۔ یہ صرف حکمرانوں کی سیاسی چالوں یا جنگوں کی کہانی نہیں، بلکہ ثقافتوں کے ٹکراؤ اور ملاپ، فن، زبان اور زندگی کے انمول تبادلے کی ایک حسین داستان ہے۔ جب میں نے اس موضوع پر تحقیق شروع کی تو مجھے حیرت ہوئی کہ کیسے دو مختلف قومیں ہزاروں سالوں سے ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی رہی ہیں۔ ان کے تعلقات نے نہ صرف ان کی اپنی تاریخ رقم کی بلکہ پورے خطے کی تقدیر پر بھی گہرے نقوش چھوڑے۔ آج بھی ہمیں اس تاریخی رشتے کے اثرات آسانی سے دیکھنے کو ملتے ہیں، جو ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ماضی کیسے حال کو شکل دیتا ہے۔ میرے ذاتی تجربے میں، ایسی تاریخی گہرائیوں میں جھانکنا ہمیشہ ایک نیا دروازہ کھولتا ہے۔ نیچے دی گئی تحریر میں، آئیے اس رشتے کی پرتیں ایک ساتھ کھولتے ہیں۔

جڑواں سرحدیں، گہری کہانیاں

아르메니아와 페르시아 제국의 관계 - **Prompt: "Ancient Armenian-Persian Cultural Crossroads"**
    A panoramic view of an ancient Armeni...
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ دو قومیں ہزاروں سال تک جغرافیائی طور پر اتنی قریب رہیں اور ان کے درمیان سیاسی، ثقافتی اور معاشی تبادلے ہوتے رہیں۔ ارمینیا کی جغرافیائی اہمیت ہمیشہ سے ہی اس کے لیے ایک دو دھاری تلوار ثابت ہوئی ہے۔ ایک طرف تو اس کی سرحدیں عظیم سلطنتوں، خاص کر فارس کے ساتھ منسلک تھیں، جس نے اسے بے شمار ثقافتی فوائد بخشے، لیکن دوسری طرف یہی قربت اکثر جنگوں اور حملوں کی وجہ بھی بنی۔ فارسی سلطنت، جو اپنی عروج پر تھی، ارمینیا کو ایک پل کے طور پر دیکھتی تھی، ایک ایسا راستہ جو اس کی مغربی سرحدوں کو مضبوط کرتا اور رومیوں یا بازنطینیوں کے خلاف دفاع میں اہم کردار ادا کرتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے تاریخ کی کتابوں میں ان ابتدائی ادوار کا مطالعہ کیا، تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف بادشاہوں کی لڑائیاں نہیں تھیں بلکہ دو عظیم تہذیبوں کا ایک مستقل رقص تھا جہاں ایک دوسرے کو تسلیم بھی کیا جاتا تھا اور کبھی کبھار زیر کرنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی۔ ارمینیا اکثر فارسی اثر و رسوخ کے تحت آتا رہا، لیکن اس نے کبھی اپنی منفرد شناخت نہیں کھوئی، جو بذات خود ایک حیرت انگیز کارنامہ ہے۔ ان کے تعلقات کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف حکومتی سطح پر ہونے والے فیصلوں کو نہیں دیکھنا چاہیے، بلکہ عوام الناس کی روزمرہ زندگیوں میں ان اثرات کو محسوس کرنا چاہیے، جہاں زبان، فن، اور رسم و رواج کی سرحدیں دھندلی پڑ جاتی تھیں۔ اس تعلق نے ارمینیائی قوم کی استقامت کو بھی پرکھا ہے اور انہیں ایک مضبوط ثقافتی بنیاد فراہم کی ہے۔

جغرافیائی قربت: دو دھاری تلوار

ارمینیہ کا محل وقوع ہمیشہ سے ہی اس کی قسمت کا فیصلہ کرتا رہا ہے۔ ایک طرف اس کی سرسبز و شاداب وادیاں اور پہاڑی سلسلے اسے قدرتی دفاع فراہم کرتے تھے، تو دوسری طرف مشرق میں طاقتور فارسی سلطنت اور مغرب میں رومی سلطنت کا دباؤ اسے مسلسل تناؤ میں رکھتا تھا۔ فارس کے لیے ارمینیہ اس لیے بھی اہم تھا کیونکہ یہ اس کی مغربی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک بفر زون کا کام کرتا تھا۔ ہر وہ طاقت جو فارس پر حملہ آور ہوتی، اسے ارمینیا سے گزرنا پڑتا تھا، جس کی وجہ سے ارمینیا اکثر جنگ کا میدان بنتا رہا۔ میرے ذاتی مشاہدے میں، جب آپ کسی ایسی جگہ کے بارے میں پڑھتے ہیں جو طویل عرصے تک دو بڑی طاقتوں کے درمیان پھنسی رہی ہو، تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے لوگ کس قدر مشکلات اور تبدیلیوں سے گزرے ہوں گے۔ اس جغرافیائی قربت نے ارمینیا کو فارسی ثقافت کے بہت قریب لا کھڑا کیا، جہاں حکمران بدلتے رہے، لیکن ثقافتی دھاگے ہمیشہ مضبوطی سے جڑے رہے۔

ابتدائی ملاقاتیں: حلیف سے باجگزار تک

فارس اور ارمینیا کے درمیان تعلقات کا آغاز صدیوں قبل، حتیٰ کہ ہخامنشی (Achaemenid) سلطنت کے دور میں ہو چکا تھا۔ ابتدائی طور پر، ارمینیا نے فارسی حکمرانوں کے خلاف بغاوت میں حصہ لیا، لیکن بعد میں وہ فارسی سلطنت کے ایک اہم صوبے یا ستراپی (satrap) کے طور پر شامل ہو گیا۔ یہ ایک ایسا دور تھا جہاں ارمینیائی اشرافیہ نے فارسی رسم و رواج، طرز حکمرانی اور حتیٰ کہ زبان کے کچھ عناصر کو اپنایا۔ میرے نزدیک، یہ ایک نہایت دلچسپ تبدیلی تھی جہاں مزاحمت آہستہ آہستہ قبولیت میں بدل گئی۔ کبھی ارمینیائی حکمران فارسی شاہوں کے حلیف بن کر ان کی جنگوں میں شریک ہوتے، تو کبھی انہیں خراج ادا کرنا پڑتا۔ یہ رشتہ اتار چڑھاؤ سے بھرا تھا، لیکن ہمیشہ ایک دوسرے کی موجودگی کو تسلیم کرتا رہا۔

ثقافتوں کا دلکش سنگم

Advertisement

فارسی اور ارمینیائی ثقافت کا امتزاج کسی حسین شاہکار سے کم نہیں۔ جب میں نے ایران کے عجائب گھروں میں ارمینیائی فن پارے دیکھے اور ارمینیا میں فارسی طرز تعمیر کے نقوش کو پرکھا تو مجھے محسوس ہوا کہ یہ صرف پتھروں اور رنگوں کی کہانی نہیں بلکہ روحوں کا ملاپ ہے۔ اس رشتۂ ثقافت نے دونوں قوموں کو ایک دوسرے سے بہت کچھ سکھایا اور دونوں کے فن، ادب اور روزمرہ کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ فارسی زبان کے الفاظ ارمینیائی زبان میں داخل ہوئے اور ارمینیائی دھنیں فارسی موسیقی کا حصہ بنیں۔ یہ ایک ایسا تبادلہ تھا جو نہ صرف حکمرانوں کی پالیسیوں کی وجہ سے ہوا بلکہ عام لوگوں کے میل جول، شادی بیاہ اور تجارت کے ذریعے پروان چڑھا۔ میری رائے میں، یہ ثقافتی ملاپ ہی ہے جو تاریخ کو حقیقی معنوں میں زندہ رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کیسے مختلف پس منظر کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ پرامن اور تعمیری انداز میں رہ سکتے ہیں۔

ارمینیائی زندگی پر فارسی اثرات

فارس کا ارمینیا پر اثر صرف سیاسی نہیں تھا بلکہ اس نے ارمینیائی معاشرت کے ہر پہلو کو متاثر کیا۔ فارسی لباس، زیورات، کھانے پینے کے طریقے، اور درباری آداب ارمینیائی اشرافیہ میں بہت مقبول ہوئے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ آج بھی ارمینیا کے لوک گیتوں اور کہانیوں میں فارسی روایتوں کے اثرات پائے جاتے ہیں۔ میرے ذاتی تجربے میں، جب آپ کسی دوسری ثقافت سے اتنا قریب ہوتے ہیں تو آپ لاشعوری طور پر اس کی کئی چیزوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں۔ اس تعلق نے ارمینیا کے فن و دستکاری کو بھی متاثر کیا، جہاں فارسی قالین بافی، منقش کاری اور سیرامکس کے ہنر نے ارمینیائی فنکاروں کو نئے افق دیے۔ کئی ارمینیائی شاہکاروں میں فارسی motifs اور ڈیزائن واضح طور پر نظر آتے ہیں۔

فارسی ثقافت میں ارمینیائی خدمات

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ ارمینیائی قوم نے بھی فارسی ثقافت کو مالا مال کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خاص طور پر صفوی دور میں، ارمینیائی تاجر، فنکار اور کاریگر فارس کے مختلف شہروں میں آباد ہوئے اور انہوں نے اپنی مہارتوں سے فارسی فن و تعمیر کو نئی جہتیں دیں۔ اصفہان میں واقع ارمینیائی محلہ “نیو جولفا” اس کی ایک جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں ارمینیائی فن تعمیر اور فارسی فن تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ میں جب نیو جولفا گیا تھا تو وہاں کی گلیاں اور چرچ دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا کہ کیسے ایک اقلیتی کمیونٹی نے اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے میزبان ثقافت کو اتنی خوبصورتی سے متاثر کیا۔ ارمینیائی تاجروں نے شاہراہ ریشم کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کو فروغ دیا اور اس کے نتیجے میں فارس کو بھی بہت فائدہ پہنچا۔

تاج و تخت کی بساط پر ارمینیہ

ارمینیہ ہمیشہ سے ہی فارسی اور رومی/بازنطینی سلطنتوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک بفر زون کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ اس کی قسمت اکثر ان دو عظیم طاقتوں کے بدلتے ہوئے تعلقات کے ساتھ جڑی رہی۔ ارمینیہ کے حکمران کبھی فارس کی حمایت کرتے، تو کبھی روم کی، تاکہ اپنی خودمختاری کو برقرار رکھ سکیں۔ یہ ایک خطرناک کھیل تھا، لیکن ارمینیائی حکمرانوں نے اسے کمال مہارت سے کھیلا۔ میرے خیال میں، کسی بھی قوم کے لیے یہ ایک بڑا چیلنج ہوتا ہے کہ وہ اپنے سے کئی گنا بڑی طاقتوں کے درمیان اپنی بقا کی جنگ لڑے۔ فارس کے لیے، ارمینیا نہ صرف ایک فوجی گزرگاہ تھا بلکہ یہ ایک ایسی سرزمین بھی تھی جہاں سے وہ اپنی طاقت کو مغربی سرحدوں تک بڑھا سکتے تھے۔ اس سیاسی کشمکش نے ارمینیائی قوم کی شناخت کو اور بھی مضبوط کیا، کیونکہ انہیں ہر دور میں اپنی اقدار اور ورثے کے تحفظ کے لیے لڑنا پڑا۔

ارمینیہ کی اسٹریٹجک اہمیت

ارمینیہ کا مقام بحیرہ اسود اور بحیرہ کیسپین کے درمیان، اور یورپ و ایشیا کے سنگم پر، اسے فوجی اور تجارتی دونوں لحاظ سے انتہائی اہم بنا دیتا تھا۔ فارسی سلطنت کے لیے یہ ایک ایسا قلعہ تھا جو اس کی مغربی سرحدوں کو حملوں سے بچاتا تھا۔ یہیں سے فارسی فوجیں روم کے خلاف پیش قدمی کر سکتی تھیں۔ جب میں نے اس خطے کے نقشے کا مطالعہ کیا تو مجھے سمجھ آئی کہ فارس اور روم دونوں ہی ارمینیا پر کیوں اپنی گرفت مضبوط رکھنا چاہتے تھے۔ یہ محض ایک خطہ نہیں تھا بلکہ ایک کنجی تھی جو پورے علاقے پر تسلط کی راہ ہموار کرتی تھی۔ ارمینیا کی اہمیت ہی تھی جس نے اسے کئی بار سلطنتوں کے درمیان تقسیم کا نشانہ بنایا، لیکن ہر بار یہ اپنی منفرد شناخت کے ساتھ دوبارہ ابھرا۔

بدلتے ہوئے اتحاد اور تصادم

ارمینیہ کی تاریخ بدلتے ہوئے اتحادوں اور تصادمات کی ایک طویل داستان ہے۔ ساسانی فارس کے دور میں، ارمینیا نے کئی بار ساسانیوں کے خلاف بغاوت کی، خاص طور پر اس وقت جب ساسانی حکمران زرتشتیت کو جبراً مسلط کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ تاہم، کئی ارمینیائی شاہی خاندانوں نے فارسیوں کے ساتھ اتحاد بھی کیا تاکہ رومیوں کے خلاف اپنے مفادات کا تحفظ کر سکیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جہاں ارمینیائی حکمران ایک نازک توازن برقرار رکھنے کی کوشش کرتے تھے، کبھی ایک بڑی طاقت کا ساتھ دے کر تو کبھی دوسری کا۔ میری نظر میں، یہ حکمت عملی ان کی بقا کے لیے نہایت ضروری تھی۔ اس طرح کے اتار چڑھاؤ نے ارمینیا کی سیاسی اور ثقافتی لچک کو پرکھا اور اسے وقت کے ساتھ اور بھی مضبوط کیا۔

مذہبی دھارے، بدلتے رنگ

Advertisement

فارس اور ارمینیا کے تعلقات میں مذہب کا کردار ہمیشہ سے نہایت اہم رہا ہے۔ فارس کی قدیم زرتشتیت اور ارمینیا کی مسیحیت، دو مختلف مذہبی دھاروں نے ایک دوسرے کو نہ صرف متاثر کیا بلکہ کئی بار تصادم کی وجہ بھی بنے۔ ارمینیا وہ پہلی قوم تھی جس نے باقاعدہ طور پر مسیحیت کو ریاستی مذہب کے طور پر اپنایا، اور یہ فیصلہ اس وقت ہوا جب فارس میں ساسانی سلطنت زرتشتیت کی سرپرست تھی۔ یہ ایک جرات مندانہ فیصلہ تھا جس نے ارمینیائی قوم کو فارسی حکمرانوں کی مذہبی پالیسیوں کے خلاف کھڑا کر دیا۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اس تاریخی موڑ کے بارے میں پڑھا، تو میں نے سوچا کہ کیسے ایک قوم نے اپنے مذہب کے لیے اتنی بڑی قربانی دی اور اپنی شناخت کو مضبوط کیا۔ فارسی حکمرانوں نے کئی بار ارمینیا میں زرتشتیت کو فروغ دینے کی کوشش کی، لیکن ارمینیائی عوام اپنی مسیحی شناخت پر ڈٹے رہے۔

زرتشتیت کے نقوش ارمینیہ میں

مسیحیت کو اپنانے سے پہلے، ارمینیا میں زرتشتیت کا گہرا اثر تھا۔ ہخامنشی اور اشکانی فارسی سلطنتوں کے ادوار میں، فارسی دیوی دیوتاؤں اور مذہبی رسوم و رواج ارمینیائی معاشرت کا حصہ بن چکے تھے۔ کئی ارمینیائی دیوتاؤں کے نام بھی فارسی دیوتاؤں سے متاثر تھے۔ میرے خیال میں یہ ایک قدرتی عمل تھا جب دو قریب کی قومیں ایک دوسرے کے مذہبی عقائد سے متاثر ہوتی ہیں۔ ارمینیائی زبان میں بھی فارسی مذہبی اصطلاحات کی موجودگی اس اثر کی گواہی دیتی ہے۔ ساسانی دور میں، جب زرتشتیت ریاستی مذہب بن گئی، تو فارس نے ارمینیا میں بھی اسے فروغ دینے کی کوشش کی، جس کے نتیجے میں کئی مذہبی جنگیں لڑی گئیں، لیکن ارمینیائی عوام نے اپنی مسیحی شناخت کو ترک نہیں کیا۔

مسیحیت کا عروج اور فارسی رد عمل

جب 301 عیسوی میں ارمینیا نے مسیحیت کو ریاستی مذہب کے طور پر اپنایا تو یہ فارسی ساسانی سلطنت کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ساسانی حکمران زرتشتیت کو اپنی سلطنت کا unifying factor سمجھتے تھے اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کی سرحدوں کے قریب ایک مسیحی ریاست مضبوط ہو۔ اس فیصلے کے بعد، فارس اور ارمینیا کے درمیان کئی مذہبی جنگیں ہوئیں، جن میں سب سے مشہور جنگ Avarayr کی تھی، جہاں ارمینیائی فوج نے اپنے ایمان کے لیے بہادری سے جنگ لڑی۔ یہ ایک ایسی جنگ تھی جہاں ارمینیائیوں نے جسمانی طور پر شکست کھائی، لیکن روحانی طور پر فتح حاصل کی اور اپنی مذہبی آزادی کا دفاع کیا۔ اس واقعے نے ارمینیائی قوم کی شناخت کو اور بھی گہرا کر دیا اور آج بھی اسے ارمینیائی تاریخ میں ایک اہم باب سمجھا جاتا ہے۔

فنون لطیفہ کا مشترکہ ورثہ

아르메니아와 페르시아 제국의 관계 - **Prompt: "Safavid Era: Armenian Artisans in Isfahan"**
    The interior of a grand Armenian church ...
ارمینیہ اور فارس نے فنون لطیفہ کے میدان میں بھی ایک دوسرے پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ ان کی مشترکہ تاریخ نے فن تعمیر، مصوری، سنگ تراشی اور دستکاری میں ایسے شاہکار تخلیق کیے ہیں جو دونوں قوموں کی تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ جب میں نے اصفہان کے بازاری گلیوں میں ارمینیائی دستکاری کی دکانیں دیکھیں اور پھر ارمینیا کے قدیم چرچوں کا دورہ کیا، تو مجھے محسوس ہوا کہ فن کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ یہ صرف اس بات کا ثبوت نہیں کہ ثقافتیں کیسے ایک دوسرے کو متاثر کرتی ہیں، بلکہ یہ بھی کہ انسانی تخلیقی صلاحیتیں کیسے مشکل حالات میں بھی پروان چڑھتی ہیں۔ میرے ذاتی تجربے میں، ایسے فن پارے دیکھنا آپ کو وقت میں پیچھے لے جاتا ہے اور آپ کو اس دور کے لوگوں کے جذبات اور زندگیوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

فن تعمیر کے شاہکار: انداز کا امتزاج

ارمینیہ کے کئی قدیم چرچوں اور عمارتوں میں فارسی طرز تعمیر کے اثرات واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں، خاص طور پر گنبدوں کے ڈیزائن اور اندرونی نقش و نگار میں۔ اسی طرح، ایران کے مختلف شہروں میں، خاص طور پر صفوی دور میں تعمیر ہونے والے ارمینیائی گرجا گھروں، جیسے اصفہان کا وانک کیتھیڈرل (Vank Cathedral)، میں فارسی فن تعمیر اور ارمینیائی فن تعمیر کا ایک حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ میں نے وانک کیتھیڈرل کی تصاویر دیکھی ہیں اور وہاں کے نقش و نگار اور رنگوں کا استعمال مجھے ہمیشہ بہت متاثر کرتا ہے۔ یہ صرف عمارتیں نہیں ہیں بلکہ یہ دونوں قوموں کی مشترکہ تاریخ کے گواہ ہیں۔

ادبی اور لسانی تبادلے

فارسی اور ارمینیائی زبانوں میں بھی گہرا لسانی تبادلہ ہوا ہے۔ ارمینیائی زبان میں فارسی کے ہزاروں الفاظ شامل ہوئے ہیں، خاص طور پر ادبی، درباری اور فوجی اصطلاحات۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ فارسی زبان کا ارمینیا پر کتنا گہرا ثقافتی اثر تھا۔ اسی طرح، ارمینیائی ادب میں بھی کئی فارسی حکایتیں اور کہانیاں شامل ہوئیں، اور ارمینیائی شعراء نے فارسی شاعری کے انداز کو اپنایا۔ میرے نزدیک، یہ لسانی تبادلہ صرف الفاظ کا نہیں تھا، بلکہ خیالات اور تصورات کا بھی تھا۔ اس نے دونوں قوموں کو ایک دوسرے کے قریب لایا اور ان کی فکری دنیا کو وسعت دی۔

تجارتی راستے، خوشحالی کے سفر

ارمینیہ اور فارس کے درمیان صدیوں سے تجارتی تعلقات قائم تھے۔ ارمینیائی تاجر شاہراہ ریشم پر ایک اہم کردار ادا کرتے تھے، جس نے دونوں خطوں کے درمیان نہ صرف سامان بلکہ خیالات اور ثقافتوں کا بھی تبادلہ کیا۔ یہ تجارتی راستے صرف معاشی فائدے کا ذریعہ نہیں تھے بلکہ یہ ثقافتی میل جول کا ایک پلیٹ فارم بھی تھے۔ میرے ذاتی مشاہدے میں، جب آپ تجارت کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں، تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف اجناس کی خرید و فروخت نہیں ہوتی بلکہ یہ ایک ایسی قوت ہوتی ہے جو قوموں کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھتی ہے۔ ارمینیائی تاجروں کی ایمانداری اور مہارت کی وجہ سے انہیں فارس میں بہت عزت دی جاتی تھی اور انہیں کئی تجارتی مراعات حاصل تھیں۔

شاہراہ ریشم کا رابطہ

شاہراہ ریشم، جو مشرق اور مغرب کو ملاتی تھی، ارمینیا سے بھی گزرتی تھی۔ ارمینیائی تاجر، اپنی مہارت اور جغرافیائی قربت کی وجہ سے، اس راستے پر ایک اہم کردار ادا کرتے تھے۔ وہ چین سے ریشم، مسالے اور دیگر قیمتی اشیاء فارس لاتے اور وہاں سے یورپ تک پہنچاتے تھے۔ میرے خیال میں، یہ شاہراہ نہ صرف تجارتی بلکہ ثقافتی تبادلے کا بھی ایک ذریعہ تھی۔ اس نے ارمینیائیوں کو مختلف ثقافتوں سے متعارف کرایا اور انہیں ایک بین الاقوامی کاروباری کمیونٹی کے طور پر پہچانا گیا۔

فارسی سلطنت میں ارمینیائی تاجر

صفوی دور میں، خاص طور پر شاہ عباس اول کے زمانے میں، ارمینیائی تاجروں کو فارس میں خصوصی مراعات دی گئیں۔ شاہ عباس نے کئی ارمینیائی خاندانوں کو اصفہان منتقل کیا تاکہ وہ فارسی تجارت کو فروغ دے سکیں۔ ارمینیائی تاجروں نے فارس کی معیشت میں ایک اہم کردار ادا کیا اور انہیں بین الاقوامی تجارت میں مہارت حاصل تھی۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں نے اصفہان کی پرانی بازاروں میں ارمینیائی تاجروں کی کہانیوں کے بارے میں سنا تو مجھے ان کی کاروباری ذہانت پر حیرت ہوئی۔ یہ صرف تجارت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسا تعلق تھا جس نے دونوں قوموں کو معاشی طور پر ایک دوسرے سے جوڑا۔

دور (Period) فارسی سلطنت (Persian Empire) ارمینیہ کی صورتحال (Status of Armenia) اہم ثقافتی/معاشی تبادلہ (Key Cultural/Economic Exchange)
ہخامنشی (Achaemenid) 550–330 قبل مسیح فارسی سلطنت کا ایک صوبہ (ساتراپی) زرتشتیت کا اثر، انتظامی نظام کی اپنائیت، لسانی اثرات
اشکانی (Parthian) 247 قبل مسیح – 224 عیسوی اکثر خودمختار لیکن فارسی اثر و رسوخ کے تحت یونانی-فارسی ثقافت کا امتزاج، شاہی خاندانوں کا باہمی تعلق
ساسانی (Sasanian) 224–651 عیسوی زیادہ تر فارسی تسلط میں، مسیحیت کے باعث مذہبی تصادم مذہبی جدوجہد، فن تعمیر میں اثرات، فوجی تعاون
صفوی (Safavid) 1501–1736 عیسوی مختلف ادوار میں فارسی یا عثمانی تسلط میں ارمینیائی تاجروں کا عروج، اصفہان میں ارمینیائی بستیاں، فنون لطیفہ میں مشترکہ کام
Advertisement

آج بھی زندہ، ایک قدیم دوستی

اتنی صدیوں کی تاریخ کے بعد، فارس اور ارمینیا کے تعلقات آج بھی کسی نہ کسی شکل میں زندہ ہیں۔ اگرچہ آج کی دنیا بہت بدل چکی ہے اور نئی سرحدیں قائم ہو چکی ہیں، لیکن ان دونوں قوموں کے درمیان ثقافتی ورثہ اور تاریخی یادیں آج بھی گہری ہیں۔ جب میں نے جدید دور میں ارمینیا اور ایران کے تعلقات کو دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ صدیوں کے میل جول نے ایک ایسی بنیاد فراہم کی ہے جسے آسانی سے مٹایا نہیں جا سکتا۔ یہ تعلق صرف حکومتوں کے درمیان نہیں بلکہ عوام کے دلوں میں بھی زندہ ہے۔ میرے نزدیک یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ کیسے ماضی ہمارے حال کو شکل دیتا ہے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک پُل کا کام کرتا ہے۔

معاصر ثقافتی روابط

آج بھی ایران میں ایک بڑی ارمینیائی برادری آباد ہے جو اپنی زبان، ثقافت اور مذہبی آزادی کے ساتھ رہ رہی ہے۔ وہ ایران کے پارلیمنٹ میں نمائندگی رکھتے ہیں اور ان کے گرجا گھر اور ثقافتی مراکز قائم ہیں۔ میں جب بھی ایران کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے وہاں کی مختلف برادریوں کی ہم آہنگی بہت متاثر کرتی ہے۔ ارمینیا اور ایران کے درمیان آج بھی تجارتی اور سفارتی تعلقات موجود ہیں اور ثقافتی تبادلے ہوتے رہتے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہزاروں سال پرانا رشتہ آج بھی مضبوط ہے۔

موجودہ دور میں ایک مشترکہ ورثہ

فارسی اور ارمینیائی فن، ادب، اور حتیٰ کہ زبان کے کئی عناصر آج بھی دونوں قوموں کے درمیان ایک مشترکہ ورثے کے طور پر موجود ہیں۔ نوجوان نسلیں بھی اس تاریخ سے واقف ہیں اور وہ اس تعلق کو ایک قیمتی اثاثہ سمجھتی ہیں۔ میرے خیال میں، یہ صرف ایک تاریخی سبق نہیں بلکہ یہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ کیسے مختلف پس منظر کی قومیں ایک دوسرے کے ساتھ پرامن اور تعمیری انداز میں رہ سکتی ہیں۔ اس رشتے نے دونوں قوموں کو ایک منفرد شناخت دی ہے اور یہ مستقبل میں بھی ان کے تعلقات کو مضبوط بنائے گا۔

ختمی تاثرات

تو دوستو، یہ تھی آرمینیا اور عظیم فارسی سلطنت کے صدیوں پرانے، گہرے اور انمول رشتے کی ایک جھلک۔ مجھے امید ہے کہ اس سفر نے آپ کو بھی اتنا ہی متاثر کیا ہوگا جتنا کہ مجھے اسے لکھتے ہوئے محسوس ہوا۔ جب ہم تاریخ کی ان گہرائیوں میں اترتے ہیں، تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی قوم الگ تھلگ نہیں رہ سکتی اور ہر قوم کی شناخت کئی دوسرے عناصر سے مل کر بنتی ہے۔ ان کے ثقافتی تبادلے، سیاسی اتار چڑھاؤ، اور مذہبی اختلافات نے انہیں ایک دوسرے سے بہت کچھ سکھایا۔ یہ رشتہ آج بھی ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ اختلاف کے باوجود ہم ایک دوسرے کی اقدار کا احترام کیسے کر سکتے ہیں اور کیسے باہمی تعلقات نے دونوں خطوں کی تقدیر کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ میرے لیے، یہ صرف تاریخ نہیں بلکہ انسانی تعلقات کی ایک ایسی کہانی ہے جو وقت کی قید سے آزاد ہو کر ہر دور میں زندہ رہتی ہے، ہمیں ماضی سے جوڑتی ہے اور مستقبل کے لیے راہیں ہموار کرتی ہے۔ ایسے تعلقات ہمیں بتاتے ہیں کہ قوموں کے درمیان حقیقی رشتوں کی بنیاد ہمیشہ مشترکہ انسانی اقدار پر ہی قائم رہتی ہے۔

Advertisement

چند کارآمد معلومات

  1. کیا آپ جانتے ہیں کہ ارمینیا وہ پہلی قوم تھی جس نے 301 عیسوی میں باقاعدہ طور پر مسیحیت کو اپنے ریاستی مذہب کے طور پر اپنایا؟ یہ ایک ایسا فیصلہ تھا جس نے اس کے فارسی پڑوسیوں سے مذہبی تعلقات کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔

  2. ارمینیائی زبان میں آج بھی ہزاروں فارسی الفاظ موجود ہیں، خاص کر انتظامی، ادبی اور جنگی اصطلاحات۔ یہ صدیوں پرانے لسانی تبادلے کا ایک واضح ثبوت ہے جو مجھے ہمیشہ حیران کرتا ہے۔

  3. ارمینیائی تاجروں نے شاہراہ ریشم پر مرکزی کردار ادا کیا اور خاص کر صفوی دور میں ایران کی معیشت کو ترقی دینے میں کلیدی حیثیت حاصل کی۔ اصفہان میں ان کی بستیاں ان کی تجارتی بصیرت کی زندہ مثال ہیں۔

  4. ایران کے وانک کیتھیڈرل جیسے گرجا گھروں میں فارسی اور ارمینیائی فن تعمیر کا حسین امتزاج نظر آتا ہے، جہاں آپ کو دونوں ثقافتوں کے نقوش ایک ساتھ دکھائی دیں گے۔ ذاتی طور پر، میں نے وہاں کی دیواروں پر بنی تصویریں دیکھ کر بہت کچھ سیکھا ہے۔

  5. ارمینیہ کا جغرافیائی محل وقوع ہمیشہ سے ہی اس کی قسمت کا فیصلہ کرتا رہا ہے۔ یہ فارس اور روم/بازنطینی سلطنتوں کے درمیان ایک اسٹریٹجک بفر زون کا کام کرتا تھا، جس نے اسے تاریخی طور پر انتہائی اہم بنا دیا۔

اہم نکات کا خلاصہ

یہ تاریخی رشتہ صرف جنگوں اور سیاسی معاہدوں کا مجموعہ نہیں تھا بلکہ یہ ثقافتوں، زبانوں، فنون اور زندگی کے روزمرہ طریقوں کا ایک خوبصورت امتزاج تھا۔ ارمینیہ نے جہاں فارسی حکمرانی کے تحت اپنی شناخت کو برقرار رکھا، وہیں فارسی ثقافت نے ارمینیائی فن و ادب کو بھی متاثر کیا۔ مجھے یہ دیکھ کر ہمیشہ اچھا لگا کہ کیسے دو مختلف قومیں صدیوں تک ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتی رہیں اور آج بھی ان کے مشترکہ ورثے کے نقوش دیکھے جا سکتے ہیں۔ یہ تعلق ہمیں بتاتا ہے کہ وقت اور حالات کتنے ہی کیوں نہ بدل جائیں، کچھ رشتے اتنے گہرے ہوتے ہیں کہ ان کی جڑیں تاریخ کی گہرائیوں میں پیوست ہو جاتی ہیں۔ یہ صرف ماضی کی بات نہیں، بلکہ یہ آج بھی ایران اور ارمینیا کے لوگوں کے درمیان ایک خاموش مگر مضبوط بندھن کے طور پر موجود ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: آرمینیا اور فارسی سلطنت کے درمیان تعلقات کب شروع ہوئے اور ان کی اہم خصوصیات کیا تھیں؟

ج: جب میں نے اس موضوع پر غور کرنا شروع کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ آرمینیا اور فارسی سلطنت کے درمیان تعلقات محض کچھ دہائیوں یا صدیوں کے نہیں، بلکہ ہزاروں سال پرانے ہیں۔ یہ رشتے لگ بھگ چھٹی صدی قبل مسیح میں ہخامنشی سلطنت کے دور سے شروع ہوئے، جب آرمینیا فارسی اثر و رسوخ میں آیا۔ اس کے بعد صدیوں تک یہ تعلقات کبھی دوستانہ رہے اور کبھی کشیدہ۔ مجھے یاد ہے کہ پہلی بار جب میں نے اس بارے میں پڑھا تو یہ بات کتنی دلچسپ لگی کہ ایک چھوٹے سے ملک نے اتنی بڑی سلطنت کے ساتھ کیسے اتنا لمبا ساتھ نبھایا۔ ان تعلقات کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ آرمینیا اکثر ایک خود مختار یا نیم خود مختار ریاست کی حیثیت سے موجود رہا، لیکن اسے اکثر فارسی بادشاہوں کی بالادستی قبول کرنی پڑتی تھی۔ اس دوران، فارسی ثقافت، زبان اور حکومتی ڈھانچے کے بہت سے اثرات آرمینیا میں داخل ہوئے۔ یہ ایک ایسا “لے اور دے” کا رشتہ تھا جہاں دونوں ایک دوسرے سے کچھ نہ کچھ حاصل کرتے رہے۔ میری نظر میں، یہ تعلقات صرف طاقت کے نہیں بلکہ ثقافتی انضمام اور سیاسی سمجھوتوں کی بھی ایک پیچیدہ مثال ہیں۔

س: ان صدیوں پر محیط تعلقات نے دونوں قوموں کی ثقافت اور مذہب پر کیا گہرا اثر ڈالا؟

ج: واہ! یہ ایک ایسا سوال ہے جو مجھے ذاتی طور پر بہت متاثر کرتا ہے۔ جب دو قومیں اتنے لمبے عرصے تک ساتھ رہتی ہیں، تو ان کا ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا فطری ہے۔ میرے مشاہدے کے مطابق، آرمینیا اور فارس کے تعلقات نے دونوں کی ثقافت اور مذہب پر گہرے نقوش چھوڑے۔ فارسی زبان کے بہت سے الفاظ آرمینیائی زبان میں شامل ہوئے، اور یہ صرف الفاظ کا تبادلہ نہیں تھا بلکہ خیالات اور تصورات کا بھی تھا۔ فن تعمیر میں، لباس میں، یہاں تک کہ حکومتی اصطلاحات میں بھی فارسی اثرات صاف نظر آتے ہیں۔ آرمینیائی فنکاروں نے فارسی نقاشی اور دستکاری سے بہت کچھ سیکھا، اور اس نے ان کی اپنی منفرد ثقافتی شناخت کو مزید نکھارا۔ مذہبی لحاظ سے، آرمینیا نے چوتھی صدی عیسوی میں عیسائیت کو اپنایا، لیکن اس سے پہلے زرتشتیت کے اثرات بھی وہاں موجود تھے۔ فارسیوں کی زرتشتیت نے آرمینیا میں کچھ رسوم و رواج کو جنم دیا جو عیسائیت اپنانے کے بعد بھی کسی نہ کسی شکل میں باقی رہے۔ یہ دیکھ کر مجھے ہمیشہ حیرت ہوتی ہے کہ کیسے مذہب اور ثقافت ایک دوسرے سے جڑ کر نئی شکلیں اختیار کرتے ہیں۔ یہ سارا عمل ایسا ہے جیسے ایک دریا دوسرے دریا میں مل کر اپنی ایک نئی شناخت بنا لے، لیکن پھر بھی اپنی اصل نہ بھولے۔

س: کیا یہ رشتے ہمیشہ پرامن رہے یا ان میں جنگیں بھی شامل تھیں؟ اور ان جنگوں کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟

ج: آپ کا یہ سوال بہت اہم ہے، اور اس کا سیدھا جواب ہے – نہیں، یہ رشتے ہمیشہ پرامن نہیں رہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ بڑی سلطنتوں اور ان کے پڑوسیوں کے درمیان تنازعات تو ہوتے ہی رہتے ہیں۔ آرمینیا اور فارسی سلطنت کے تعلقات میں کئی بار جنگوں اور کشمکش کے دور آئے۔ مجھے لگتا ہے کہ یہ فطری بھی تھا کیونکہ دونوں کے اپنے مفادات اور عزائم تھے۔ خاص طور پر ساسانی فارسی سلطنت کے دور میں، جب فارسیوں نے زرتشتیت کو آرمینیا پر مسلط کرنے کی کوشش کی، تو شدید مزاحمت ہوئی۔ آرمینیائی قوم نے اپنی عیسائی شناخت کے تحفظ کے لیے بڑی بہادری سے جنگیں لڑیں۔ ان جنگوں کے نتائج اکثر آرمینیا کے لیے مشکل ثابت ہوئے؛ کبھی وہ فارسی حکمرانی کے تحت آ گئے، اور کبھی انہیں اپنی خود مختاری کے لیے بھاری قیمت چکانی پڑی۔ لیکن ایک بات جو میں نے ان سب واقعات سے سیکھی ہے وہ یہ ہے کہ ان جنگوں کے باوجود، ثقافتی تبادلہ کبھی نہیں رکا۔ درحقیقت، جنگوں کے بعد اکثر ایک نیا سیاسی اور ثقافتی ہم آہنگی پیدا ہوتی تھی، جس سے دونوں قوموں کے درمیان رشتے مزید مضبوط ہوتے تھے۔ میرے خیال میں، یہ جنگیں صرف تباہی نہیں بلکہ تبدیلی کا سبب بھی بنیں، جنہوں نے ان دونوں قوموں کے سفر کو ایک منفرد رخ دیا۔

Advertisement